رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 We are real Muslim and our actions and deeds are our representation not what populated or broadcast by or on media by media owners. We are people of Pakistan and we are nation and we are the people of this world. We are the voice and we are the change. The First step is speaking and sharing and talking about the evil and bad going on. And remember its never too late. We have to begin this from somewhere and this somewhere is our-self and Thats Me for everyone. We need to use our-self for a purpose either spreading awareness and knowledge on all fronts as this is our home and we do not let this happen so easily but we raise our values norms and culture as this is our world and we are the rightful owner of this land. so spread the truth as evil has to die sooner or later and truth has to Rule the world and Light has to spread.
all we need to build our own media. We do not need to look for jobs as a purpose but we need to look for purpose and than a job. people are not joining media people who should bring the change like right in system and bringing the change.

At least speak and those days are not far when we gonna begin all in Islamic perspective or things or use media for TRUTH and awareness and not to live only for business and money and our Purposes will be our life and everything.

This is just a beginning when people are raising the voice. Awareness and speaking our evil is first step and soon we will end this regime of ignorance and begin and help people understand the new era of wisdom and knowledge and help to humanity rather only saying doing nothing. So pray and raise your voice and let other know the Truth and let them speak as one day these voice will touch the sky and these people have to quit and this media have to shut the bad and populate and broadcast good for masses. Purpose is our Truth and purpose is our Life and Faith.

ہمارے مُلک میں بڑے مُنظم طریقے سے ماڈرن ازم کے طور پر فحاشی و عُریانی کو فروغ دیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
اندیشہ ہے کہ عریانی،فحاشی، بے حیائی اور نام نہاد روشن خیالی کا یہ سیل رواں ہماری پہچان ، ہمارا تشخص اور ہماری متاعِ ایمانی کو بہا کر نہ لے جائے۔
مغرب کا ’’تھنک ٹینک ‘‘الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مسلمان معاشرہ سے عصمت و پاکیزگی کو ختم کر نے ،ہماری حمیت ، ہماری غیرتِ ملی اور شناخت کے خاتمہ کے لیے اپنے تمام تر مادی ذرائع بروئے کار لا رہا ہے ۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شرم و حیاء کے فروغ کے لیے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو عوام الناس تک پہنچا یا جائے۔۔۔
اپنے گھروں کا ماحول ٹھیک کیا جائے،مادر پدر آزادی اور بے حیائی کا پرچار کرنے والے چینلز کو اپنے گھروں میں بند کیا جائے۔
ہمارے ملک میں میڈیا پر فواحش کی نشر اشاعت کے روک تھام کیلئے پیمرا نامی ایک ادارا بھی قائم ہے مگر اس ادارے کے ذمہ داران کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے یا شائد ان کا تعلق ہی مادر پدر آزاد سوسائٹی سے ہے ۔۔بے غیرت حکمرانوں کے لئے تو یہ کوئی ایشو ہے ہی نہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے خلاف تمام باشعور عوام کے علاوہ محراب و منبر سے بھی توانا آواز آنی چاہیے ،علماء کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے خطبوں میں عوام کو فحاشی و عریانی کے مضر اثرات سے آگاہ کریں

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع
تاریخ: دسمبر 12, 2012 مصنف: اسریٰ غوری

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور
جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾
یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔
میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔
مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟
تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ
چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔
ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔
یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟
ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔
کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے
جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ﷺ کے ان الفاظ نے کہ
الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟
کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔
اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔
http://www.qalamkarwan.com/2012/12/rishtoon-ko-pamal-karta-eshiq-mamno.html 

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 We are real Muslim and our actions and deeds are our representation not what populated or broadcast by or on media by media owners. We are people of Pakistan and we are nation and we are the people of this world. We are the voice and we are the change. The First step is speaking and sharing and talking about the evil and bad going on. And remember its never too late. We have to begin this from somewhere and this somewhere is our-self and Thats Me for everyone. We need to use our-self for a purpose either spreading awareness and knowledge on all fronts as this is our home and we do not let this happen so easily but we raise our values norms and culture as this is our world and we are the rightful owner of this land. so spread the truth as evil has to die sooner or later and truth has to Rule the world and Light has to spread.
all we need to build our own media. We do not need to look for jobs as a purpose but we need to look for purpose and than a job. people are not joining media people who should bring the change like right in system and bringing the change.

At least speak and those days are not far when we gonna begin all in Islamic perspective or things or use media for TRUTH and awareness and not to live only for business and money and our Purposes will be our life and everything.

This is just a beginning when people are raising the voice. Awareness and speaking our evil is first step and soon we will end this regime of ignorance and begin and help people understand the new era of wisdom and knowledge and help to humanity rather only saying doing nothing. So pray and raise your voice and let other know the Truth and let them speak as one day these voice will touch the sky and these people have to quit and this media have to shut the bad and populate and broadcast good for masses. Purpose is our Truth and purpose is our Life and Faith.

ہمارے مُلک میں بڑے مُنظم طریقے سے ماڈرن ازم کے طور پر فحاشی و عُریانی کو فروغ دیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
اندیشہ ہے کہ عریانی،فحاشی، بے حیائی اور نام نہاد روشن خیالی کا یہ سیل رواں ہماری پہچان ، ہمارا تشخص اور ہماری متاعِ ایمانی کو بہا کر نہ لے جائے۔
مغرب کا ’’تھنک ٹینک ‘‘الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مسلمان معاشرہ سے عصمت و پاکیزگی کو ختم کر نے ،ہماری حمیت ، ہماری غیرتِ ملی اور شناخت کے خاتمہ کے لیے اپنے تمام تر مادی ذرائع بروئے کار لا رہا ہے ۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شرم و حیاء کے فروغ کے لیے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو عوام الناس تک پہنچا یا جائے۔۔۔
اپنے گھروں کا ماحول ٹھیک کیا جائے،مادر پدر آزادی اور بے حیائی کا پرچار کرنے والے چینلز کو اپنے گھروں میں بند کیا جائے۔
ہمارے ملک میں میڈیا پر فواحش کی نشر اشاعت کے روک تھام کیلئے پیمرا نامی ایک ادارا بھی قائم ہے مگر اس ادارے کے ذمہ داران کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے یا شائد ان کا تعلق ہی مادر پدر آزاد سوسائٹی سے ہے ۔۔بے غیرت حکمرانوں کے لئے تو یہ کوئی ایشو ہے ہی نہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے خلاف تمام باشعور عوام کے علاوہ محراب و منبر سے بھی توانا آواز آنی چاہیے ،علماء کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے خطبوں میں عوام کو فحاشی و عریانی کے مضر اثرات سے آگاہ کریں

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع
تاریخ: دسمبر 12, 2012 مصنف: اسریٰ غوری

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور
جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾
یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔
میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔
مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟
تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ
چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔
ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔
یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟
ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔
کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے
جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ﷺ کے ان الفاظ نے کہ
الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟
کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔
اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔
http://www.qalamkarwan.com/2012/12/rishtoon-ko-pamal-karta-eshiq-mamno.html 

Family System And Mother


Family System And Mother

Family system is a basic entity and building block of a society and a nation. If we have to build a nation we have to build our family system and strengthen our roots and take good care of family system. This is the beauty of Family System that we can see in east and west.

Beautiful and pure relations are blessing of God.

A mother
A father
Daughters
Sons
Sisters
Brothers

And many other relatives and a hierarchy and tree on right and left and up and down. Everyone from top to bottom connected. and very strongly rooted.

Every aspect is full of memories as well every entity have its own responsibilities. This family System is home of norm and values and ethics that enrich a new comer in this society or a single family enrich with all ingredients required to shape up his/her character and make it look a healthy and vibrant and ethical and social member of society. as well the education the very basic ingredients of this Family Systems.
Like every system This Systems has input from all members and reflects to all members as combine as well collective output.
As well educational point of view there is a physical as well spiritual and a cultural touch to each member. And these all ingredient together make a single entity a glowing star and a bench mark of branches of science and culture or civilization.

This family system is a representation of the each member and a furnace that mold and farm that cultivate new generation as per the custom and culture of the Family System.

A good Family System Build a nation and a nation can be destroyed by destroying the family system.

The only fact i seen in decline of Civilizations or Nations is decline of their family system in different time with different ways.

As per my understanding its a very basic building block of a society and culture and rest norms and ethics and morals raised under this basic block.

In different part of world we see a different set of Family Systems. 

In East A father is the head and mother is the co head of the state 🙂 and there role may be swap and as per my understanding i seen the women of east more powerful than any women or family system.

Islam as a religion give an equal rights to women as to men. And being the head or co head both have equal responsibilities either a mother or father.

Going down to hierarchy to Sister/Brothers or Daughters/Sons.

There are no words to define the beauty of these relationships as they crossest of times and very pure in terms and matters. and in terms of understanding a sisters or a brother understand each-other very well. Like they care each other during the life tenure. Best Friends i can say and best friend those help each other in all even and odds of times. and help irrespective of the state of life and depth or measure of the trouble.

Similarly in Above hierarchy A Mother.

A mother is the most beautiful and tender and home of compassion from God to the human kind as well in animals and plants and all creatures.

Purest form of Love in all sort of relationship is mother’s love and God given importance to mother in this system of family and cycle of a family system.

Mother is home of love and purity and emotions and deeply attached with kids and to her as well to father all their lives even kids are also old but to them they will always be kids.

To the world a kids could be anything but to a mother he/she will be always a sign of love and affection and devotion and her attachment will be so pure. like the Purest things present in forms or existence thats Mother love.

One More aspect Prophet Muhammad PBUH said thrice with importance to take care and look after about Mother, Mother and Mother.

Mother love is a topic you can write all life and aspects but there is no end of its purity in nature.

Under the Umbrella every relation with any entity define different but very beautiful and superb relations in definitions as well in ways of making this system a perfect system.

Every member under the Family system is equally responsible to care each other with ways possible as well towards helping and resolving issues.

Mother is princes to her hubby and a ruler to kids and benchmark to daughter. And mothers may have many languages but very common language they owns is language of pure love. in all creatures they have this language very common. No Matter what but their Love is common and always have same warmth what so ever is the season or time 🙂

To make a perfect nation all you need a mother.
A mother is pivotal or subtle pillar or unit of a family system and hence forth a nation.

Every being have a mother and every being have a responsibility to return the blessing of mother by his/her good manner and behavior to her. She will never ask you to bring stars or miracles all she wants your betterment and prosperity for this life as well after life. I wish and pray to everyone have a family and above all a mother that can make a nation full of feelings and responsibility and strive for wisdom and knowledge.

What all we speak and write or delivers are our heart and soul to the world or the loved ones or the ones or groups so let it go out to people with very good of manners and behavior and attitude. So before worrying about anything outer or even health be so much worry about the heart and soul because you can hide all but you can never hide what you have right in your heart. Today or tomorrow you have to flood the surroundings with the words you never spoken or said. so All you need to worry about the world right in your heart. They day you conquer the inner outer will be not more than a step ahead.

Keep remember all mothers and parent in prayers and stay tight with your sister and brothers and siblings and be human as you are part of humankind and humankind should and must have humanity.

Humanity is the above relationships and races and colors and religion.

Read More:

Mother the biggest gift of Allah to us:Women and Islam

Men and Women Equality and Women

Humanity is mother of all Emotions

Family System And Mother


Family System And Mother

Family system is a basic entity and building block of a society and a nation. If we have to build a nation we have to build our family system and strengthen our roots and take good care of family system. This is the beauty of Family System that we can see in east and west.

Beautiful and pure relations are blessing of God.

A mother
A father
Daughters
Sons
Sisters
Brothers

And many other relatives and a hierarchy and tree on right and left and up and down. Everyone from top to bottom connected. and very strongly rooted.

Every aspect is full of memories as well every entity have its own responsibilities. This family System is home of norm and values and ethics that enrich a new comer in this society or a single family enrich with all ingredients required to shape up his/her character and make it look a healthy and vibrant and ethical and social member of society. as well the education the very basic ingredients of this Family Systems.
Like every system This Systems has input from all members and reflects to all members as combine as well collective output.
As well educational point of view there is a physical as well spiritual and a cultural touch to each member. And these all ingredient together make a single entity a glowing star and a bench mark of branches of science and culture or civilization.

This family system is a representation of the each member and a furnace that mold and farm that cultivate new generation as per the custom and culture of the Family System.

A good Family System Build a nation and a nation can be destroyed by destroying the family system.

The only fact i seen in decline of Civilizations or Nations is decline of their family system in different time with different ways.

As per my understanding its a very basic building block of a society and culture and rest norms and ethics and morals raised under this basic block.

In different part of world we see a different set of Family Systems. 

In East A father is the head and mother is the co head of the state 🙂 and there role may be swap and as per my understanding i seen the women of east more powerful than any women or family system.

Islam as a religion give an equal rights to women as to men. And being the head or co head both have equal responsibilities either a mother or father.

Going down to hierarchy to Sister/Brothers or Daughters/Sons.

There are no words to define the beauty of these relationships as they crossest of times and very pure in terms and matters. and in terms of understanding a sisters or a brother understand each-other very well. Like they care each other during the life tenure. Best Friends i can say and best friend those help each other in all even and odds of times. and help irrespective of the state of life and depth or measure of the trouble.

Similarly in Above hierarchy A Mother.

A mother is the most beautiful and tender and home of compassion from God to the human kind as well in animals and plants and all creatures.

Purest form of Love in all sort of relationship is mother’s love and God given importance to mother in this system of family and cycle of a family system.

Mother is home of love and purity and emotions and deeply attached with kids and to her as well to father all their lives even kids are also old but to them they will always be kids.

To the world a kids could be anything but to a mother he/she will be always a sign of love and affection and devotion and her attachment will be so pure. like the Purest things present in forms or existence thats Mother love.

One More aspect Prophet Muhammad PBUH said thrice with importance to take care and look after about Mother, Mother and Mother.

Mother love is a topic you can write all life and aspects but there is no end of its purity in nature.

Under the Umbrella every relation with any entity define different but very beautiful and superb relations in definitions as well in ways of making this system a perfect system.

Every member under the Family system is equally responsible to care each other with ways possible as well towards helping and resolving issues.

Mother is princes to her hubby and a ruler to kids and benchmark to daughter. And mothers may have many languages but very common language they owns is language of pure love. in all creatures they have this language very common. No Matter what but their Love is common and always have same warmth what so ever is the season or time 🙂

To make a perfect nation all you need a mother.
A mother is pivotal or subtle pillar or unit of a family system and hence forth a nation.

Every being have a mother and every being have a responsibility to return the blessing of mother by his/her good manner and behavior to her. She will never ask you to bring stars or miracles all she wants your betterment and prosperity for this life as well after life. I wish and pray to everyone have a family and above all a mother that can make a nation full of feelings and responsibility and strive for wisdom and knowledge.

What all we speak and write or delivers are our heart and soul to the world or the loved ones or the ones or groups so let it go out to people with very good of manners and behavior and attitude. So before worrying about anything outer or even health be so much worry about the heart and soul because you can hide all but you can never hide what you have right in your heart. Today or tomorrow you have to flood the surroundings with the words you never spoken or said. so All you need to worry about the world right in your heart. They day you conquer the inner outer will be not more than a step ahead.

Keep remember all mothers and parent in prayers and stay tight with your sister and brothers and siblings and be human as you are part of humankind and humankind should and must have humanity.

Humanity is the above relationships and races and colors and religion.

Read More:

Mother the biggest gift of Allah to us:Women and Islam

Men and Women Equality and Women

Humanity is mother of all Emotions

why we are still using facebook ?


Walk on your own terms and on our own culture and social life not the one someone decide for us like Place owned by someone with a very simple objective to propagate Norm and social life according to them so A very bold but no least step to through facebook far away and It’s simply a dare to do 🙂

I will write about new feature like outline some other time by which facebook imposes things on users one after one.

I left facebook because

This is happening because Muslim countries didn’t take some serious steps on shameful acts like drawing cartoons of holy prophet Muhammad (PBUH). Earlier Facebook members created a group “Draw Muhammad Day” which is officially supported by Facebook. Because they didn’t remove it even after thousands of complaints submitted by Muslim communtiy against that group. In oppose to this they have removed another groups on Holocaust issues created by other Facebook members in replyto Draw cartoons. Facebook administration only stop access to Cartoons pages in few Islamic countries. By doing this, they did open a door for everyone else who keeps bad thoughts for Islam and Muslims. Pakistani government has officially banned Facebook in Pakistan for a few days in march 2010. But closing your eyes from world and let them do anything they want isn’t a proper way to handle problems. I have reported Burn Quran Day group now, I don’t know if Facebook will now change its policy of ignoring Muslims or they keep it like before. May be this group will be removed shortly or simply become not accessible in Muslim countries. However I don’t have any positive hopes from Facebook.
We should look to our selves what we are doing …what matters to us and how seriously we take things being a nation and ofcourse being a muslim ..and how we react and pretend to things…
Most of things do not matter but being a nation and being a muslim many little things matters alot and obviously we never learned from past this is the only thing we should learn
We should learn from past and obviously past has an impact on Future.
And today plays a vital role for future so in future we should do whats more important to …And i think there is a world and a potential of us being wasted on such sites which has nothing to do with knowledge.
We should be a much responsible and mature nation our again my point here is we should learn from Past which matters alot.
Above all we should live our lives on our terms means on our religion terms not anyone else will decide our fate for us and we always stay dependent on others.
Alot more in my mind and that all kept me away from this social community .
May be its meaning less to anyone else but for me its everything even its nothing.
What i know and believe when there is a will there is always a way …so its a way to express emotions to the world and express things with responsibility and not to hurt anyone Its not give up its a way and its a new world and innovation and full of expression .

why we are still using facebook ?


Walk on your own terms and on our own culture and social life not the one someone decide for us like Place owned by someone with a very simple objective to propagate Norm and social life according to them so A very bold but no least step to through facebook far away and It’s simply a dare to do 🙂

I will write about new feature like outline some other time by which facebook imposes things on users one after one.

I left facebook because

This is happening because Muslim countries didn’t take some serious steps on shameful acts like drawing cartoons of holy prophet Muhammad (PBUH). Earlier Facebook members created a group “Draw Muhammad Day” which is officially supported by Facebook. Because they didn’t remove it even after thousands of complaints submitted by Muslim communtiy against that group. In oppose to this they have removed another groups on Holocaust issues created by other Facebook members in replyto Draw cartoons. Facebook administration only stop access to Cartoons pages in few Islamic countries. By doing this, they did open a door for everyone else who keeps bad thoughts for Islam and Muslims. Pakistani government has officially banned Facebook in Pakistan for a few days in march 2010. But closing your eyes from world and let them do anything they want isn’t a proper way to handle problems. I have reported Burn Quran Day group now, I don’t know if Facebook will now change its policy of ignoring Muslims or they keep it like before. May be this group will be removed shortly or simply become not accessible in Muslim countries. However I don’t have any positive hopes from Facebook.
We should look to our selves what we are doing …what matters to us and how seriously we take things being a nation and ofcourse being a muslim ..and how we react and pretend to things…
Most of things do not matter but being a nation and being a muslim many little things matters alot and obviously we never learned from past this is the only thing we should learn
We should learn from past and obviously past has an impact on Future.
And today plays a vital role for future so in future we should do whats more important to …And i think there is a world and a potential of us being wasted on such sites which has nothing to do with knowledge.
We should be a much responsible and mature nation our again my point here is we should learn from Past which matters alot.
Above all we should live our lives on our terms means on our religion terms not anyone else will decide our fate for us and we always stay dependent on others.
Alot more in my mind and that all kept me away from this social community .
May be its meaning less to anyone else but for me its everything even its nothing.
What i know and believe when there is a will there is always a way …so its a way to express emotions to the world and express things with responsibility and not to hurt anyone Its not give up its a way and its a new world and innovation and full of expression .