رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 We are real Muslim and our actions and deeds are our representation not what populated or broadcast by or on media by media owners. We are people of Pakistan and we are nation and we are the people of this world. We are the voice and we are the change. The First step is speaking and sharing and talking about the evil and bad going on. And remember its never too late. We have to begin this from somewhere and this somewhere is our-self and Thats Me for everyone. We need to use our-self for a purpose either spreading awareness and knowledge on all fronts as this is our home and we do not let this happen so easily but we raise our values norms and culture as this is our world and we are the rightful owner of this land. so spread the truth as evil has to die sooner or later and truth has to Rule the world and Light has to spread.
all we need to build our own media. We do not need to look for jobs as a purpose but we need to look for purpose and than a job. people are not joining media people who should bring the change like right in system and bringing the change.

At least speak and those days are not far when we gonna begin all in Islamic perspective or things or use media for TRUTH and awareness and not to live only for business and money and our Purposes will be our life and everything.

This is just a beginning when people are raising the voice. Awareness and speaking our evil is first step and soon we will end this regime of ignorance and begin and help people understand the new era of wisdom and knowledge and help to humanity rather only saying doing nothing. So pray and raise your voice and let other know the Truth and let them speak as one day these voice will touch the sky and these people have to quit and this media have to shut the bad and populate and broadcast good for masses. Purpose is our Truth and purpose is our Life and Faith.

ہمارے مُلک میں بڑے مُنظم طریقے سے ماڈرن ازم کے طور پر فحاشی و عُریانی کو فروغ دیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
اندیشہ ہے کہ عریانی،فحاشی، بے حیائی اور نام نہاد روشن خیالی کا یہ سیل رواں ہماری پہچان ، ہمارا تشخص اور ہماری متاعِ ایمانی کو بہا کر نہ لے جائے۔
مغرب کا ’’تھنک ٹینک ‘‘الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مسلمان معاشرہ سے عصمت و پاکیزگی کو ختم کر نے ،ہماری حمیت ، ہماری غیرتِ ملی اور شناخت کے خاتمہ کے لیے اپنے تمام تر مادی ذرائع بروئے کار لا رہا ہے ۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شرم و حیاء کے فروغ کے لیے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو عوام الناس تک پہنچا یا جائے۔۔۔
اپنے گھروں کا ماحول ٹھیک کیا جائے،مادر پدر آزادی اور بے حیائی کا پرچار کرنے والے چینلز کو اپنے گھروں میں بند کیا جائے۔
ہمارے ملک میں میڈیا پر فواحش کی نشر اشاعت کے روک تھام کیلئے پیمرا نامی ایک ادارا بھی قائم ہے مگر اس ادارے کے ذمہ داران کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے یا شائد ان کا تعلق ہی مادر پدر آزاد سوسائٹی سے ہے ۔۔بے غیرت حکمرانوں کے لئے تو یہ کوئی ایشو ہے ہی نہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے خلاف تمام باشعور عوام کے علاوہ محراب و منبر سے بھی توانا آواز آنی چاہیے ،علماء کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے خطبوں میں عوام کو فحاشی و عریانی کے مضر اثرات سے آگاہ کریں

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع
تاریخ: دسمبر 12, 2012 مصنف: اسریٰ غوری

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور
جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾
یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔
میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔
مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟
تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ
چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔
ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔
یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟
ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔
کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے
جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ﷺ کے ان الفاظ نے کہ
الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟
کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔
اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔
http://www.qalamkarwan.com/2012/12/rishtoon-ko-pamal-karta-eshiq-mamno.html 

Teacher and Teaching


Teacher and Teaching:
 

Starting with our religion preaching: IQRA Bismi Rabikalazi and other verse IQRA wa RabuhulAkram.

Revelation of Quran begin with word Iqra. Quran the word of Almighty Allah for all time and mankind is the book of Wisdom and truths for all walks of life.

Holy Quran and Hadith emphasis on reading writting and acting upon with consistent practice and preaching. This all done by TEACHING and the TEACHERS.
Here comes the topic which is teaching.
Role of teachers in our society and how noble and important teachers are for a society.

Teachers are core and soul of a society. And if me not wrong a society developed by teachers. If you want to judge or predict future of a nation then you need to have a look to the living and spirit of teachers and how the nation entertain their teachers and how good living style of the bulders of a nation. Long story short a nation growths pivotal shear comes from teachers.

Question: Living standards we have given to our teachers?
What are the benefits given to teachers for joining this noble occupation?
Are we making teaching a business now a days especially in Pakistan Culture?
Our leaders,teachers,parents,doctors,lawyers obviously every catagory of nation develops by teachers and spent a great shear of time with them.

Other then materialistic benefits how much we do respect our teachers.how many times a university students stood shoulder to shoulder for a cause?

Obviously there are people and organization working for the good of this profession. And right now me point is not criticizing the business perspective. Only concern is to join this noble profession for a cause other then earn for living.

Believe me or not but when we start understanding the place of a teacher and teaching in a society or nation we will be pioneers of times.
What all I see is the one problem of our many problems is today problems.
Leave the Government and other NGOs and other people for the sake of this occupation but start respecting this profession from heart and do share to people around. What our religion teaches us and how it will be beneficial for our Culture and Society.

Workout on this only IDEA :
WHY ME : Please forget this word and Say TRY ME .

Justice and Peace


Justice is the benchmark for all walks of a society and system. and peace provides an environment to flourish under umbrella of Justice. In nature you will find harmony in a system by these two elements.
If you remove these two elements from any systems you will remain with a desert of sand nothing like humanity or civilizations or culture.
The only slogan for our nation should be Justice and Peace.
I do not want to color this with any political and religious domain. Above current Judiciary and political systems in Pakistan. the only thing solve all problems by means of sacrifices of few.
Honestly Judiciary in Pakistan never worked the way it should. Even our nation given sacrifices of blood and hardship for Its restoration. Our nation is always looted on many names but never gifted other than personal interests of few. In a day from home to office or any business center either on Public transport to sophisticated vehicle if you have eyes and heart you will see nothing called Justice. Justice became an element of business it can be bought, purchased or resell. Please come on its not an allegation. A day with open eyes will make you realize it and being nation we do hundred of mistakes because it We and I thinking all times.
One more thing i want to add: if you gone through a Court case and aware how the procedure adopted: you will be fully aware of the delay and i will say Truck ki Bati Justice system*. Any case filed will take not days it will take years for a simple crime or dispute. Dear Justice Governors if systems are not working the way they should you can amend them as per the society need. Justice needed for a poor and how can a poor can go to Thanna or kichari or Supreme Court What a Judiciary System we have … I have not seen people talking about Justice or Judiciary. Why Why and Whats going on …. A poor to mediocre is in pain and we cant wait all times for Farishta Sift* Justice/Doctor/Engineer/Politician or Governor. We need to change in this system so that it can not be looted or altered by any means.
Modification: Our Justice System And CJP are all part of this System. Ok Look around and have you seen any decision of any case what so ever in Pakistan. Either the victim himself part of the Government or Judiciary. Unfortunately i have not seen any decision for last 20years against any case filed. So they are all part of it.
Please adopt and share only two rules Justice and Peace. Our religious book, books and other books all emphasize on Justice and Peace.
I pray and people around to pray and adopt and make it a culture and norm of US to do Justice and Peace in homes and out of homes.
Stay Blessed 🙂

Where is Hijab/Perda in Pakistan media and what we are following now-a-days ?


Where is Hijab/Perda in Pakistan media and what we are following now-a-days ?
Pakistan electronic media:
PTV and all cable operator and their role: Once upon a time we use to watch TV in 1990, 15-30 minutes for cartoons in old times. Technology kept on evolving and traveled from one country to another. Hence it reached to our country. Today roughly more than 200 Cables channels are broadcasted in Pakistan apart of that PTV once we are use to watch in old ages 🙂 . Today when i watch TV i seldom watch a girl in any channel covering her head either an anchor or actor or any role playing. I get worried over this state of us because its us who forgot our own norms and culture. Day after day we are following people who are in a sense deaf to religion and following a blind faith and unknown-Path. Well a real sketch of this whole situation can be portrait-ed as follows: They invaded us with technology and we were never aware of his odds and evens, we given our time and our money and healths. It’s not an end of the story after few years we adopted those hidden changes and then starting modifying our culture and norms, Still it was not worst. A time came when this media start hurting our religion as the ultimate objective was obviously religion. And they played this game very well. It took some time and after two to three decades there efforts became fruitful. Today we realized all and we can easily see and understand their plans for our future generations as we for us.
They are using all electronic media even our own people, media, blogs, websites etc. Need of hour is to strengthen our roots from this media invasion and bring changes from personal level to national level. We should participate for the growth of our nations either in education or technical fields. We should keep us away away from an objective less efforts for hollow believes.
I tried writing many times but most of the time i seen people not talking about it as we are part of a system. We do speak about all wrongs or right aspects but do not pin point the source of all evils. Keep this a hot topic for all medium of communication and channels and papers how to bring our culture back to our media and how make people comfortable with our religion and culture. and how to make people understand the reality of life and how to make people realize that there should not be any difference between what you say and do and what you preach and practice all day. This is a matter of responsibility for everyone even an educated person or person with no education. and obviously every tine effort is an input and it make difference so think, speak and finally start acting.
Don’t you see , Don’t you think, Don’t you plan …!!!!
This is nothing a bigger thing to do to speak about something and put your comments or discuss about things and do read books with knowledge and make it a habit and give it to your new generation as much you can.
Please boys low down your gaze and girls start covering your self and acting as you should and as per religion and our faith. This media will make you a residence of hell one day if you kept on following it and practicing like people acting on it. Please try to solve this riddle and disclose this dilemma of devil. and do question yourself when you do something along the way and make a right choice not by seeing others but from mind and obviously consult Our Holy Quran and sunnah(Hadith).
 
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اسطرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اورناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائزطور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو 
Sahih International
Say, “Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities – what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allah has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason.”
Surrah AL-An’am Ayat 151

Truth to admit


DEAR YOUTH , AT-LEAST DON’T PROMOTE INDIAN CULTURE THROUGH ELECTRONIC MEDIA , LOOK WHAT THEY DID TO US AND IN RETURN HOW GOOD WE ARE …. PAINFUL BUT TRUTH … RELIGION/IDEOLOGY/CULTURE/
VALUES THESE ARE OUR SYMBOLS AND BENCHMARK TO BE SOVEREIGNTY NATION … PROMOTE OUR OWN CULTURE/CIVILIZATION/HERITAGE/NORMS … WE DON’T NEED TO PUT ALL ON OTHERS …

We need to realize what we are doing and representing to other and our actions are followed by many people respective if we are an icon. Unfortunately media is not portraying Islamic/Pakistani Culture, and youth start thinking this is what need of hour and this is what needed to be done irrespective of the preaching of Islam. This country was resulted after sacrifice and on the name of religion but today regretfully our life represents every thing but far away from religion.

Our social gathering, events and ceremonies are representing what culture we belong to or poses but again we forgot everything. What we were and what we are today the only reason is we stop thinking and stop being People of value or people by ideology or above all follower of a true religion and devoted to teaching of our religion.

We need to workout on it and make us representable and followable by means to work on our roots, culture and religion utmost.

why we are still using facebook ?


Walk on your own terms and on our own culture and social life not the one someone decide for us like Place owned by someone with a very simple objective to propagate Norm and social life according to them so A very bold but no least step to through facebook far away and It’s simply a dare to do 🙂

I will write about new feature like outline some other time by which facebook imposes things on users one after one.

I left facebook because

This is happening because Muslim countries didn’t take some serious steps on shameful acts like drawing cartoons of holy prophet Muhammad (PBUH). Earlier Facebook members created a group “Draw Muhammad Day” which is officially supported by Facebook. Because they didn’t remove it even after thousands of complaints submitted by Muslim communtiy against that group. In oppose to this they have removed another groups on Holocaust issues created by other Facebook members in replyto Draw cartoons. Facebook administration only stop access to Cartoons pages in few Islamic countries. By doing this, they did open a door for everyone else who keeps bad thoughts for Islam and Muslims. Pakistani government has officially banned Facebook in Pakistan for a few days in march 2010. But closing your eyes from world and let them do anything they want isn’t a proper way to handle problems. I have reported Burn Quran Day group now, I don’t know if Facebook will now change its policy of ignoring Muslims or they keep it like before. May be this group will be removed shortly or simply become not accessible in Muslim countries. However I don’t have any positive hopes from Facebook.
We should look to our selves what we are doing …what matters to us and how seriously we take things being a nation and ofcourse being a muslim ..and how we react and pretend to things…
Most of things do not matter but being a nation and being a muslim many little things matters alot and obviously we never learned from past this is the only thing we should learn
We should learn from past and obviously past has an impact on Future.
And today plays a vital role for future so in future we should do whats more important to …And i think there is a world and a potential of us being wasted on such sites which has nothing to do with knowledge.
We should be a much responsible and mature nation our again my point here is we should learn from Past which matters alot.
Above all we should live our lives on our terms means on our religion terms not anyone else will decide our fate for us and we always stay dependent on others.
Alot more in my mind and that all kept me away from this social community .
May be its meaning less to anyone else but for me its everything even its nothing.
What i know and believe when there is a will there is always a way …so its a way to express emotions to the world and express things with responsibility and not to hurt anyone Its not give up its a way and its a new world and innovation and full of expression .